جمعہ 18 ستمبر 2026 - 15:10
مذہبی فاسٹ فوڈ اور آج کا جوان

حوزہ/ تیز رفتار ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ دینی ابلاغ کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ آج کا نوجوان مختصر ویڈیوز، چند جملوں اور فوری معلومات کے ذریعے مذہبی مفاہیم تک پہنچ رہا ہے، تاہم ہر مختصر پیغام لازماً مکمل علمی غذا نہیں ہوتا۔ مولانا سید نجیب الحسن زیدی اپنے اس مضمون «مذہبی فاسٹ فوڈ اور آج کا جوان» میں جدید ذرائع ابلاغ، مختصر مذہبی مواد اور نوجوانوں کی فکری تربیت کے باہمی تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مختصر پیغام کو مطالعہ، تحقیق، دلیل اور معرفت کی طرف رہنمائی کا ذریعہ بننا چاہیے، نہ کہ گہرے دینی علم کا متبادل۔

تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | ہم ایک ایسے عہد میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس میں رفتار محض زندگی کا حصہ نہیں رہی، زندگی کا مزاج بن چکی ہے۔

پیغام بھیجا اور جواب حاضر، خبر وقوع پذیر ہوئی اور چند لمحوں میں پوری دنیا کے موبائل اسکرین تک پہنچ گئی، کوئی سوال ذہن میں آیا اور چند الفاظ کی تلاش نے معلومات کا ایک انبار سامنے رکھ دیا۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو بہت سی سہولتیں دی ہیں؛ فاصلے کم کیے، وقت بچایا، علم تک رسائی آسان کی اور رابطے کی دنیا کو بدل دیا۔

مسئلہ رفتار نہیں ہے

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب رفتار ہماری ذہنی عادت بن جائے اور ہم ہر چیز سے فوری نتیجہ طلب کرنے لگیں۔

پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہر چیز سیکنڈوں میں سمجھ آجائے، تاریخ ایک مختصر کلپ میں واضح ہوجائے، فلسفہ چند جملوں میں سمٹ جائے اور دینی مفاہیم بھی 30 سکینڈ کی ویڈیو میں سمجھ میں آجائیں

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا ہر وہ چیز جو جلدی مل جائے، واقعی ہمارے لیے مفید بھی ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں اپنے کھانے کی میز سے بھی مل سکتا ہے۔

آئیں دیکھیں ہر گھر میں یہ مصیبت ہے کچن میں بھوتوں کا بسیرا ہے گھر میں فاسٹ فوڈ کا ڈیراہے۔

فاسٹ فوڈ کی خصوصیت یہ ہے ذائقہ فوراً ملے گا ہاضمے کی گارنٹی نہیں

آج کی شہری زندگی میں برگر، سینڈوچ، پیزا، شاورما اور دوسرے فاسٹ فوڈ ہماری روزمرہ ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں۔

ان کی کشش سمجھنا مشکل نہیں۔

خوب صورت پیکنگ، دلکش خوشبو، خوشنما ذائقہ، فوری دستیابی اور انتظار سے نجات۔

فاسٹ فوڈ کا سب سے بڑا وعدہ یہی ہے:

"بھوک ابھی ہے، کھانا بھی ابھی ملے گا۔"

لیکن صحت کا معاملہ اتنا سادہ نہیں۔جو چیز چند منٹ میں تیار ہوجاتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ جسم کے لیے بھی بہترین غذا ہو۔ غذائیت کا فیصلہ اس کی پیکنگ، خوشبو، رنگ یا ذائقے سے نہیں ہوتا؛ اس کے اجزا، مقدار، تیاری کے طریقے اور مسلسل استعمال کے اثرات دیکھنے پڑتے ہیں۔

ایک برگر بظاہر خوب صورت ہوسکتا ہے، پیزا اشتہا انگیز ہوسکتا ہے، شاورما خوش ذائقہ ہوسکتا ہے اور سینڈوچ انتہائی دلکش انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے؛ مگر ظاہری کشش اور غذائی افادیت ایک ہی چیز نہیں۔

یہی فرق ہمیں دینی دنیا میں بھی سمجھنا ہوگا۔

آج ہمارے پاس مذہبی فاسٹ فوڈ کی بھرمار ہے۔

چند سیکنڈ کی ویڈیو، ایک جذباتی جملہ، ایک خوب صورت اقتباس، ایک آیت یا حدیث کا مختصر ٹکڑا، پس منظر میں پُراثر آواز اور چند لمحوں میں ایک مکمل "دینی پیغام" تیار!

یہ مواد بسا اوقات مفید بھی ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے:

کیا ہر مختصر دینی مواد معرفت کی مکمل غذا بھی ہے؟

یقیناً نہیں۔

جس طرح جسم کو صرف ذائقے کی نہیں بلکہ متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ذہن اور روح کو بھی صرف جذبات نہیں بلکہ دلیل، فکری عمق، مطالعہ اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اسکرین کی روشنی درمیان پروان چڑھتی ہوئی نسل

آج کا جوان اس دنیا میں بڑا ہوا ہے جہاں موبائل صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی معلومات، تفریح، تعلیم، تعلقات اور بہت حد تک اس کی فکری دنیا کا بھی ایک بڑا دروازہ ہے۔

وہ ایک ہی لمحے میں دس مختلف موضوعات کے درمیان منتقل ہوسکتا ہے۔

ایک خبر دیکھی۔

اگلے لمحے مزاحیہ ویڈیو۔

پھر کسی عالم کی تقریر۔

پھر ایک اشتہار۔

پھر ایک تاریخی واقعہ۔

پھر کسی فلسفی کا اقتباس۔

اور چند لمحوں بعد موضوع بدل چکا ہوتا ہے۔

یہ مسلسل رفتار انسانی توجہ پر اثر ڈالتی ہے۔ آج کا مخاطب اکثر یہ چاہتا ہے کہ اصل بات فوراً سامنے آجائے۔

یہ خواہش بذاتِ خود قابلِ ملامت نہیں۔

آخر ہم نے ابلاغ کے ذرائع ہی ایسے بنا دیے ہیں۔

مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جو بات مختصر وقت میں سمجھ نہ آئے، وہ شاید اہم ہی نہیں۔

حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے۔

بعض باتیں مختصر اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ سادہ ہیں؛

اور بعض باتیں طویل اس لیے ہوتی ہیں کہ حقیقت پیچیدہ ہے۔

عدل، آزادی، اخلاق، خدا، انسان، نبوت، امامت، آخرت، تاریخ اور تہذیب سے جڑےسوالات کو صرف اس لیے چند جملوں میں نہیں سمیٹا جاسکتا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ

وقت کی کمی حقیقت کو مختصر نہیں کرتی۔

مختصر ہونا عیب نہیں، ناقص ہونا عیب ہے

یہاں ایک نہایت اہم بات پر توجہ ضروری ہے

مختصر دینی گفتگو نہ صرف ممکن بلکہ ضروری بھی ہوسکتی ہے۔

ایک مؤثر جملہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ایک مختصر ویڈیو کسی غلط فہمی کو دور کرسکتی ہے۔

ایک آیت کسی سوئے ہوئے احساس کو بیدار کرسکتی ہے۔

ایک سوال انسان کو برسوں کے مطالعے کی طرف لے جاسکتا ہے۔

لہٰذا ہمیں مختصر مواد سے پریشانی نہیں ہوناچاہیئے۔

دشمنی سطحیت سے ہونی چاہیے۔

مختصر بیان کا مقصد یہ نہیں کہ پیچیدہ حقیقت کو کاٹ چھانٹ کر اتنا چھوٹا کردیا جائے کہ حقیقت ہی باقی نہ رہے۔

اصل فن یہ ہے کہ:

بات مختصر ہو، مگر بے ہنگم نہ ہو

سادہ ہو، مگر سطحی نہ ہو؛

دل نشین ہو، مگر بے دلیل نہ ہو۔

مذہبی سینڈوچ بن تو جلدی جاتا ہے لیکن دینی مشکل بھی پیدا کر دیتا ہے۔کیونکہ اس کی تاریخی تفصیل نکال دی جاتی ہے۔

دلائل کا پس منظر حذف کردیا جاتا ہے۔

اختلافِ نظر کا ذکر ختم ہوجاتا ہے۔

سیاق و سباق غائب ہوجاتا ہے۔

پھر درمیان میں دو تین جذباتی جملے رکھے جاتے ہیں، اوپر آیت یا حدیث کا اقتباس سجایا جاتا ہے اور خوب صورت انداز میں اسے چند سیکنڈ میں پیش کردیا جاتا ہے۔

مذہبی سینڈوچ تیار ہے!

یہ دیکھنے میں خوب صورت ہوسکتا ہے، لیکن علمی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے:

کیا اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کے بغیر مسئلہ کا مفہوم بدل سکتا ہے؟

یہاں ہمیں رکنا چاہیے۔

کیونکہ دینی معلومات میں ایک چھوٹی سی حذف شدگی بھی کبھی کبھی بڑے معنیاتی فرق کا سبب بن جاتی ہے۔

پیزا کی چمک اور علم کی حقیقت

سوشل میڈیا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جو چیز زیادہ توجہ حاصل کرے، وہ زیادہ کامیاب ہے۔

یہاں علم اور مقبولیت کے درمیان ایک خطرناک فاصلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

پیزا کی تصویر خوب صورت ہو تو بھوک بڑھتی ہے؛ مگر تصویر غذائیت نہیں بتاتی۔

اسی طرح ایک دینی ویڈیو کا بہترین ایڈیٹ ہونا، خوب صورت خطاطی، پُرجوش آواز اور جذباتی انداز اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں پیش کیا گیا علمی دعویٰ بھی درست اور مکمل ہے۔

پیش کش توجہ حاصل کرسکتی ہےلیکن دلیل اعتماد پیدا کرتی ہے۔

اور دین کے معاملے میں دونوں کے درمیان فرق برقرار رہنا چاہیے۔

شاورما کی طرح سب کچھ ایک ساتھ نہ لپیٹ دیا جائے

ایک ہی مختصر ویڈیو میں عقیدہ بھی، تاریخ بھی، فقہ بھی، سیاست بھی، اخلاق بھی اور فلسفہ بھی بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو نتیجہ اکثر ایسا ہوتا ہے جیسے مختلف ذائقوں کو ایک ہی شاورما میں لپیٹ دیا گیا ہو۔

مخاطب کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ:

کون سی بات قطعی ہے؟

کون سی ظنی ہے؟

کون سی روایت ہے؟

کون سا تاریخی تجزیہ ہے؟

کون سی کسی عالم کی رائے ہے؟

اور کون سا مقرر کا اپنا استنباط؟

علم کی ایک بنیادی خصوصیت درجہ بندی اور تمییز ہے۔

جب ہر چیز کو ایک ہی سطح پر رکھ دیا جائے تو معلومات بڑھ سکتی ہیں، مگر فہم کی گارنٹی نہیں رہتی

مختصر دینی مواد کا کیا کیا جائے

یہاں ہماری حکمتِ عملی واضح ہونی چاہیے۔

ہمیں نوجوان کو سوشل میڈیا سے نکالنے کے بجائے سوشل میڈیا سے مطالعے تک پہنچانا ہے۔

مختصر ویڈیو بنائیے، مگر اس کے پیچھے تفصیلی گفتگو موجود ہو۔

ایک اقتباس دیجیے، مگر اصل کتاب کا حوالہ بھی دیجیے۔

ایک سوال اٹھائیے، مگر اس سوال کو سمجھنے کے لیے مزید مواد بھی فراہم کیجیے۔

ایک حدیث بیان کیجیے، مگر ممکن ہو تو اس کا ماخذ بھی بتائیے۔

یعنی:

کلپ سے کتاب تک۔

سوال سے تحقیق تک۔

توجہ سے مطالعے تک۔

اور معلومات سے معرفت تک۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جدید ذرائع دین کے لیے مسئلہ نہیں رہتے بلکہ وسیلہ بن جاتے ہیں۔

روایتی انداز تبلیغ اور جدید انداز

ہماری کلاسیکی علمی روایت میں بھی یہ شعور موجود تھا کہ ہر بات ہر مخاطب سے ایک ہی انداز میں نہیں کہی جاتی۔

برہان، جدل اور خطابت کے اپنے اپنے دائرے تھے۔ مخاطب کی استعداد، گفتگو کا مقصد اور دلیل کی نوعیت پیش نظر رکھی جاتی تھی۔

لیکن آج تیس سیکنڈ کی ویڈیو کو ایک ضخیم کلامی یا فلسفیانہ کتاب کا متبادل بنانا ضروری نہیں۔

اس ویڈیو کا کام یہ ہوسکتا ہے کہ وہ صرف دروازہ کھول دے۔

یہی کافی ہے۔

اگر ایک نوجوان نے تیس سیکنڈ کی ویڈیو دیکھی اور اس کے ذہن میں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوگیا تو ویڈیو کامیاب ہے۔

اگر وہ سوال اسے ایک مضمون تک لے گیا تو یہ اس سے بڑی کامیابی ہے۔

اگر مضمون نے اسے کتاب تک پہنچایا تو ابلاغ نے اپنا حقیقی کام شروع کردیا۔

اور اگر کتاب اسے غور و فکر، تحقیق اور اپنے اندر تبدیلی کی طرف لے گئی تو مختصر پیغام نے اپنا مقصد پا لیا۔

آج کے جوان کو کیا دینا ہے؟

ہمیں نوجوان کو صرف "جواب" نہیں دینا۔

کبھی اسے سوال کرنا بھی سکھانا ہے۔

ہمیں اسے صرف معلومات نہیں دینی۔

اسے ماخذ تلاش کرنا بھی سکھانا ہے۔

ہمیں اسے صرف اپنی بات نہیں سنانی۔

اسے مختلف دلائل سن کر غور کرنا بھی سکھانا ہے۔

ہمیں اسے ہر موضوع پر فوری رائے دینے کے لیے تیار نہیں کرنا؛ بلکہ یہ سکھانا ہے کہ بعض اوقات "مجھے ابھی معلوم نہیں، مجھے اس کے بارے میں پڑھنا ہوگا" بھی ایک علمی جواب ہے۔

یہ جملہ کمزوری نہیں؛ علمی دیانت کی علامت ہے۔

ذہن کو متوازن غذا کی ضرورت

فاسٹ فوڈ کی اصل خرابی یہ نہیں کہ انسان کبھی برگر یا پیزا نہ کھائے کہ مطلقا قابل قبول نہیں بلکہ مسئلہ تب ہے جب عارضی غذا مستقل غذا بن جائے۔

اسی طرح مختصر دینی مواد بھی اپنی جگہ مفید ہوسکتا ہے۔

مسئلہ تب ہے جب مختصر مواد ہی ہماری پوری دینی غذا بن جائے۔

اس لیے آج کے جوان سے ہمیں یہ نہیں کہنا کہ موبائل چھوڑ دو، سوشل میڈیا چھوڑ دو، مختصر ویڈیوز مت دیکھو۔

بلکہ اسے یہ سکھانا ہے:

دیکھو، مگر پرکھ کر۔

سنو، مگر سوچ کر۔

پڑھو، مگر ماخذ کے ساتھ۔

مانو، مگر دلیل سمجھ کر۔

اور جہاں بات گہری ہو، وہاں وقت دینے سے مت گھبراؤ۔

اور اہلِ علم و مبلغین سے بھی یہی کہنا گزارش ہے

نوجوان کی رفتار کو سمجھیں، مگر علم کی گہرائی کو قربان نہ کریں۔

اس کی زبان میں بات کریں مگر حقیقت کو نہ کاٹیں

اس کی توجہ حاصل کریں مگر اس کی توجہ کو اپنی ذات کا اسیر نہ بنائیں اسے کتاب، فکر اور تحقیق تک پہنچائیں

دین کو ایسا مواد نہ بنائیں جو صرف اسکرول روک دے؛

ایسا پیغام بنائیں جو زندگی روک کر سوچنے پر مجبور کردے۔

کیونکہ برگر چند منٹ میں تیار ہوسکتا ہے،

پیزا چند منٹ میں میز پر آسکتا ہے،

شاورما چند لمحوں میں ہاتھ میں دیا جاسکتا ہے؛

مگر انسان چند لمحوں میں صاحبِ معرفت نہیں بنتا۔

اس کے لیے وقت چاہیے،

مطالعہ چاہیے،

سوال چاہیے،

تأمل چاہیے،

اور کبھی کبھی اپنے ہی بنائے ہوئے تصورات سے باہر نکلنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔

لہٰذا ہماری کوشش یہ نہ ہو کہ ہم نوجوان کو صرف مذہبی فاسٹ فوڈ کھلاتے رہیں؛

ہماری کوشش یہ ہو کہ ایک چھوٹا سا نوالہ اسے ایسی میز تک لے جائے جہاں کتاب بھی ہو، دلیل بھی، سوال بھی اور معرفت کی پوری غذا بھی۔

مختصر پیغام سے آغاز ہو—

مگر سفر وہیں ختم نہ ہو۔

اسکرین سے نظر اٹھے،

کتاب پر ٹھہرے،

ذہن میں سوال پیدا ہو،

دل میں طلب جاگے،

اور انسان معرفت کی طرف چل پڑے۔

یہی آج کے جوان کے لیے دینی ابلاغ کا اصل چیلنج بھی ہے اور سب سے خوب صورت امکان بھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha